سبھی کچھ چھوڑ آیا ہوں
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ مشکبار سی سانسیں، وہ دھیمی دھیمی مہک
وہ خوشگوار سی حِدت، وہ ہلکی ہلکی کسک
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ میرے چہرے کو تکتی ہوئی غزال آنکھیں
وہ جھک کے اٹھتی ہوئی دلنواز سی پلکیں
وہ بے قرار نگاہیں، وہ سوگوار نظر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
مرے لبوں پہ وہ گھبرا کے ہاتھ رکھ دینا
وہ ان کہی میں ہر اک بات مجھ سے کہہ دینا
گریز کرتی ہوئی ہاں کا دلنشیں منظر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
کتابیں فیض کی بکھری ہوئی سرہانے پر
نفی میں ہلتا ہوا سر، بے خودی میں شانے پر
ہر ایک منظرِ زیبا، ہر ایک ساعتِ خوش
ادائے حسن کی معصومیت کا وہ پیکر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ کپکپاتے ہوئے لب، وہ ڈبڈباتی نظر
وہ الوداعی تبسم سا، زرد چہرے پر
ٹھہر گیا ہے نگاہوں میں آخری منظر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شئے اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ مشکبار سی سانسیں، وہ دھیمی دھیمی مہک
وہ خوشگوار سی حِدت، وہ ہلکی ہلکی کسک
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ میرے چہرے کو تکتی ہوئی غزال آنکھیں
وہ جھک کے اٹھتی ہوئی دلنواز سی پلکیں
وہ بے قرار نگاہیں، وہ سوگوار نظر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
مرے لبوں پہ وہ گھبرا کے ہاتھ رکھ دینا
وہ ان کہی میں ہر اک بات مجھ سے کہہ دینا
گریز کرتی ہوئی ہاں کا دلنشیں منظر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
کتابیں فیض کی بکھری ہوئی سرہانے پر
نفی میں ہلتا ہوا سر، بے خودی میں شانے پر
ہر ایک منظرِ زیبا، ہر ایک ساعتِ خوش
ادائے حسن کی معصومیت کا وہ پیکر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شۓ اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
وہ کپکپاتے ہوئے لب، وہ ڈبڈباتی نظر
وہ الوداعی تبسم سا، زرد چہرے پر
ٹھہر گیا ہے نگاہوں میں آخری منظر
تمہارے پاس سے میں اٹھ کے آ گیا ہوں مگر
ہر ایک شئے اسی کمرے میں چھوڑ آیا ہوں
خلیل اللہ فاروقی
No comments:
Post a Comment