خاک پر خاک کے حصار میں رہ
نشۂ عشق کے خمار میں رہ
ہر سمندر، کہاں سمندر ہے
تشنگی اپنے ہی کنار میں رہ
رہنے کی ہے جگہ دلِ درویش
قرب کا پَل گنوا دیا تُو نے
عمر بھر اسکے انتظار میں رہ
مقتلوں سے ہے سلسلہ جس کا
سرکشی کی اسی قطار میں رہ
پہلے گم راستے میں لوگ ہوئے
گم ہوئی آج شہ سوار میں رہ
چار سُو اپنا آپ بکھرا دے
دھوپ سا دشتِ بے کنار میں رہ
فہیم شناس کاظمی
No comments:
Post a Comment