Sunday, 18 December 2016

خاک پر خاک کے حصار میں رہ

خاک پر خاک کے حصار میں رہ
نشۂ عشق کے خمار میں رہ
ہر سمندر، کہاں سمندر ہے
تشنگی اپنے ہی کنار میں رہ
رہنے کی ہے جگہ دلِ درویش
شاد و آباد اس دیار میں رہ
قرب کا پَل گنوا دیا تُو نے
عمر بھر اسکے انتظار میں رہ
مقتلوں سے ہے سلسلہ جس کا
سرکشی کی اسی قطار میں رہ
پہلے گم راستے میں لوگ ہوئے
گم ہوئی آج شہ سوار میں رہ
چار سُو اپنا آپ بکھرا دے
دھوپ سا دشتِ بے کنار میں رہ

فہیم شناس کاظمی

No comments:

Post a Comment