آپ تو گھبرا گئے بے تابئ دل دیکھ کر
کیا کہیں گے بندہ پرور اہلِ محفل دیکھ کر
میں تو ہوں پروردۂ آغوشِ طوفانِ فنا
خود ڈبو دیتا ہوں کشتی قربِ ساحل دیکھ کر
اک نگاہِ لطف کی محتاج ہے تعمیرِ عشق
وہ بھی نخشبؔ بیخودئ دل سے آساں ہو گیا
درد جو بخشا تھا ہم کو مشکل دیکھ کر
نخشب جارچوی
No comments:
Post a Comment