Thursday, 22 December 2016

خواب دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں

خوابِ دیرینہ سے رخصت کا سبب پوچھتے ہیں
چلیے پہلے نہیں پوچھا تھا تو اب پوچھتے ہیں
کیسے خوش طبع ہیں اس شہر دلآزار کے لوگ
موج خوں سر سے گزر جاتی ہے تب پوچھتے ہیں
اہلِ دنیا کا تو کیا ذکر، کہ دیوانوں کو
صاحبانِ دلِ شوریدہ بھی کب پوچھتے ہیں
خاک اڑاتی ہوئی راتیں ہوں کہ بھیگے ہوئے دن
اولِ صبح کے غم، آخرِ شب پوچھتے ہیں
ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں
یہی مجبور، یہی مہر بہ لب، بے آواز
پوچھنے پر کبھی آئیں تو غضب پوچھتے ہیں
کرمِ مسند و منبر کہ اب اربابِ حکم
ظلم کر چکتے ہیں تب مرضئ رب پوچھتے ہیں

افتخار عارف

No comments:

Post a Comment