ایک انسان کی موت
رک کیوں گئے تمہارے ہاتھ موجمدار
گنا پیلنے کی مشین کا پہیہ رک گیا
زمین رک گئی
آدھے سیارے پر ہمیشہ کے لیے رات آ گئی
لالٹین کون جلائے گا؟
ہوائیں گزرتی ہیں پتوں کو گراتی ہوئی
میلاد کی کتاب کے ورق اڑ رہے ہیں
باہر الگنی پر بنیان سوکھ رہا ہے
ٹنکی کی ٹونٹی سے پانی گر رہا ہے
یہ اتنے سارے کام کون کرے گا موجمدار؟
رک کیوں گئے تمہارے ہاتھ
دیکھو! رانگا ماٹی پر دن نکل آیا ہے
بانس کے درختوں پر کونپلیں پھوٹ رہی ہیں
ہتیا اور بھولا کو نمودار ہوتے ہوۓ نہیں دیکھو گےکیا؟
تمہارے بیٹے اپنی بیویوں کے ساتھ گھاٹ سے کشتی کھول رہے ہیں
ان سے نہیں ملو گے کیا؟
وہاں کرشنا چورا کے سایے میں
تمہاری بیوی کی قبر
انسانوں اور بادلوں کو گزرتے دیکھتی ہے
کیا فاتحہ نہیں پڑھو گے؟
اگربتی نہیں جلاؤ گے موجمدار؟
تم میری زبان جانتے تھے
میں تمہاری زبان نہیں جانتا تھا لیکن آج تمہارے سرہانے
ایک گیت کے بول دہراتا ہوں
گاؤ موجمدار
جیسے بچے گاتے ہیں
جیسے بوڑھی گنگا گاتی ہے
شوکو لے اٹھیا
امی مونے مونے بولی
شارا دن امی جانے
بھالو ہوئے چولی
آدیش کورے جہان
مور گرو جانے
امی جان شئی کاج
کوری بھالو مانے
رک کیوں گئے، بولتے کیوں نہیں موجمدار؟
تمہیں کیلے کے باغوں اور پانی سے پیار تھا نا
ہم تمہیں کیلے کے پتوں میں دفنائیں گے
تمہاری قبر پانی میں بنائیں گے
موجمدار
فوجی بوٹ دھان کی پنیری سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے
نہیں
دھان کی پنیری فوجی بوٹ سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے
اس بوٹ میں میرا پاؤں تھا موجمدار
لو یہ گنا چھیلنے کی کٹار
کاٹ دو اس پاؤں کو
الگ کر دو اسے
مجھے اپنے پاؤں سے خوف آتا ہے
مجھے مردہ آدمی کی ہنسی سے خوف آتا ہے
مجھے رکی ہوئی زمین سے خوف آتا ہے
رک کیوں گئے تمہارے ہاتھ موجمدار
ثروت حسین
No comments:
Post a Comment