Thursday, 22 December 2016

وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں

وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں

عمر گزری تو ہم نے جانا ہے
وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں
وہ مراسم نہیں رہے باقی
قربتیں دوریوں میں ڈھلتی ہیں
نقش چہروں کے یوں بدلتے ہیں
جیسے پت چھڑ میں پیڑ سے پتے
گر کے اس کو برہنہ کرتے ہیں
لوگ مصروف ہوں نہ ہوں پھر بھی
اتنی فرصت انہیں نہیں ملتی
فون ہی پر سہی ذرا پوچھیں
جی رہے ہیں کہ مر چکے ہیں ہم
دل تو دکھتا ہے اب، مگر کم کم
عمر گزری تو ہم نے جانا ہے
وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں

راشد آزر

No comments:

Post a Comment