وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں
عمر گزری تو ہم نے جانا ہے
وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں
وہ مراسم نہیں رہے باقی
قربتیں دوریوں میں ڈھلتی ہیں
نقش چہروں کے یوں بدلتے ہیں
گر کے اس کو برہنہ کرتے ہیں
لوگ مصروف ہوں نہ ہوں پھر بھی
اتنی فرصت انہیں نہیں ملتی
فون ہی پر سہی ذرا پوچھیں
جی رہے ہیں کہ مر چکے ہیں ہم
دل تو دکھتا ہے اب، مگر کم کم
عمر گزری تو ہم نے جانا ہے
وقت کے ساتھ سب بدلتے ہیں
راشد آزر
No comments:
Post a Comment