Thursday, 22 December 2016

بدن پہ خرقۂ تہذیب پھٹنے والا ہے

بدن پہ خرقۂ تہذیب پھٹنے والا ہے
جسے بچا کے رکھا ہے بہت سنبھالا ہے
تمہیں دکھاؤں میں شہرِ جدید کا نقشہ
یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے یہ شوالا ہے
مہیب اندھیرے ہیں روشن خیال لوگوں پر
نہ جانے اگلے ہی پل کیا گزرنے والا ہے
جہاں بھی ابھری صدائے ضمیرِ انسانی
جدیدیت کے نقیبوں نے مار ڈالا ہے
فضا میں اڑتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے
پرندِ خستہ کا اک آخری سنبھالا ہے

جمال اویسی

No comments:

Post a Comment