بدن پہ خرقۂ تہذیب پھٹنے والا ہے
جسے بچا کے رکھا ہے بہت سنبھالا ہے
تمہیں دکھاؤں میں شہرِ جدید کا نقشہ
یہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے یہ شوالا ہے
مہیب اندھیرے ہیں روشن خیال لوگوں پر
جہاں بھی ابھری صدائے ضمیرِ انسانی
جدیدیت کے نقیبوں نے مار ڈالا ہے
فضا میں اڑتے ہوئے اور لڑکھڑاتے ہوئے
پرندِ خستہ کا اک آخری سنبھالا ہے
جمال اویسی
No comments:
Post a Comment