زندگی تیری محبت ہی اگر ہو جاتی
زندگی پھر کسی عنواں سے بسر ہو جاتی
تیرے آنے سے کہاں وقت رکا، شب ٹھہری
تُو نہ آتا بھی تو اس شب کی سحر ہو جاتی
ہائے وہ ایک نظر، جو مِری جانب نہ اٹھی
تُو نے چاہا ہی نہیں اے کفر! وگرنہ میں کیا
تُو جدھر دیکھتا،۔ دنیا ہی اُدھر ہو جاتی
مٹ گئے جس کے لیے نام تک اس کا نہ لیا
کاش، اس بات کی اس کو بھی خبر ہو جاتی
سلیمان اریب
No comments:
Post a Comment