Thursday, 22 December 2016

دکن کی سانولی کون وہ محو خرام ہے اے ہم نشیں

دکن کی سانولی

کون وہ محوِ خرام ہے اے ہم نشیں
دیکھ لیلیٰ تو نہیں، دیکھ رادھا تو نہیں
بنتِ زہرہ ہے، نہ جانے دخترِ مہتاب ہے
فیصلہ ہو کس طرح، کب دیکھنے کی تاب ہے
سانولی رنگت میں بھی یہ شانِ حسنِ تازہ کار
جس پہ صبحوں کے اجالے، جس پہ صبحیں بھی نثار
میں تو بس اتنا سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بھی ہو
دستِ فطرت نے مجسم کر دیا ہے شام کو

سلیمان اریب

No comments:

Post a Comment