دکن کی سانولی
کون وہ محوِ خرام ہے اے ہم نشیں
دیکھ لیلیٰ تو نہیں، دیکھ رادھا تو نہیں
بنتِ زہرہ ہے، نہ جانے دخترِ مہتاب ہے
فیصلہ ہو کس طرح، کب دیکھنے کی تاب ہے
سانولی رنگت میں بھی یہ شانِ حسنِ تازہ کار
میں تو بس اتنا سمجھتا ہوں کہ وہ کوئی بھی ہو
دستِ فطرت نے مجسم کر دیا ہے شام کو
سلیمان اریب
No comments:
Post a Comment