Wednesday, 21 December 2016

سمندر پار کر کے اب پرندے گھر نہیں آتے

سمندر پار کر کے اب پرندے گھر نہیں آتے
اگر واپس بھی آتے ہیں تو لے کر پَر نہیں آتے
مِری آنکھوں کے دونوں کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں
کہ اب ان سے سخن کرنے مِرے منظر نہیں آتے
مِری چاہت خلاؤں میں دھواں بن بن کے اڑتی ہے
مگر اس خاک کے ذرے مِرے در پر نہیں آتے
مِرے آنگن کی چھتری کے کبوتر خوب ہیں لیکن
چلے جاتے ہیں تو واپس کبھی مُڑ کر نہیں آتے
تمہارے شہر کے موسم، ہمارے شہر میں راہیؔ 
سنہری دھوپ کی لے کر کبھی چادر نہیں آتے

سوہن راہی

No comments:

Post a Comment