سمندر پار کر کے اب پرندے گھر نہیں آتے
اگر واپس بھی آتے ہیں تو لے کر پَر نہیں آتے
مِری آنکھوں کے دونوں کھڑکیاں خاموش رہتی ہیں
کہ اب ان سے سخن کرنے مِرے منظر نہیں آتے
مِری چاہت خلاؤں میں دھواں بن بن کے اڑتی ہے
مِرے آنگن کی چھتری کے کبوتر خوب ہیں لیکن
چلے جاتے ہیں تو واپس کبھی مُڑ کر نہیں آتے
تمہارے شہر کے موسم، ہمارے شہر میں راہیؔ
سنہری دھوپ کی لے کر کبھی چادر نہیں آتے
سوہن راہی
No comments:
Post a Comment