Wednesday, 21 December 2016

جیون کی بگھیا سے ہم کو سندر سوغات ملی

جیون کی بگہیا سے ہم کو سندر سوغات ملی
پھولوں کا سہرا باندھا تو شعلوں کی بارات ملی
چاند بھٹکتا دیکھا سب نے میرے شہر کی گلیوں میں
تنہائی کا بھیس بدل کر یاد تِری جس رات ملی
ہم بھی کتنے خوش قسمت ہیں ہمیں تمہارے آنگن سے
سورج کی خیرات ملی تو کالی رات بھی ساتھ ملی
اس کو کھیل کہیں،۔ یا قسمت کا اندھیر کہیں
جس نے ساری دنیا جیتی، اس کو پیار کی مات ملی
راہیؔ تیرے شعروں میں ہے لمس کنوارے جسموں کا
پت جھڑ میں بھی تجھ کو کچی کلیوں کی سوغات ملی

سوہن راہی

No comments:

Post a Comment