جیون کی بگہیا سے ہم کو سندر سوغات ملی
پھولوں کا سہرا باندھا تو شعلوں کی بارات ملی
چاند بھٹکتا دیکھا سب نے میرے شہر کی گلیوں میں
تنہائی کا بھیس بدل کر یاد تِری جس رات ملی
ہم بھی کتنے خوش قسمت ہیں ہمیں تمہارے آنگن سے
اس کو کھیل کہیں،۔ یا قسمت کا اندھیر کہیں
جس نے ساری دنیا جیتی، اس کو پیار کی مات ملی
راہیؔ تیرے شعروں میں ہے لمس کنوارے جسموں کا
پت جھڑ میں بھی تجھ کو کچی کلیوں کی سوغات ملی
سوہن راہی
No comments:
Post a Comment