رسمِ الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے
ہر طرف آگ ہے دامن کو بچائیں کیسے
دل کی راہوں میں اٹھاتے ہیں جو دنیا والے
کوئی کہہ دے کہ وہ دیوار گرائیں کیسے
درد میں ڈوبے ہوئے نغمیں ہزاروں ہیں مگر
بوجھ ہوتا جو غموں کا تو اُٹھا بھی لیتے
زندگی بوجھ بنی ہو تو اٹھائیں کیسے
وہ بھی رو دے گا اسے حال سنائیں کیسے
موم کا گھر ہے چراغوں کو جلائیں کیسے
نقش لائلپوری سے منسوب
نقش لائلپوری
جسونت رائے شرما
No comments:
Post a Comment