Saturday, 17 December 2016

میں دنیا کی حقیقت جانتا ہوں

میں دنیا کی حقیقت جانتا ہوں
کسے ملتی ہے، شہرت جانتا ہوں
تیری یادیں ہیں، شب بیداریاں ہیں
ہے آنکھوں کو شکایت جانتا ہوں
غزل پھولوں سی، دل صحراؤں جیسا
میں اہلِ فن کی حالت جانتا ہوں
تڑپ کر اور تڑپائے مجھ کو
شبِ غم تیری فطرت جانتا ہوں
سحر ہونے کو ہے، ایسے لگے ہے
میں سورج کی سیاست جانتا ہوں

نقش لائلپوری

جسونت رائے شرما

No comments:

Post a Comment