میں دنیا کی حقیقت جانتا ہوں
کسے ملتی ہے، شہرت جانتا ہوں
تیری یادیں ہیں، شب بیداریاں ہیں
ہے آنکھوں کو شکایت جانتا ہوں
غزل پھولوں سی، دل صحراؤں جیسا
میں اہلِ فن کی حالت جانتا ہوں
سحر ہونے کو ہے، ایسے لگے ہے
میں سورج کی سیاست جانتا ہوں
کسے ملتی ہے، شہرت جانتا ہوں
تیری یادیں ہیں، شب بیداریاں ہیں
ہے آنکھوں کو شکایت جانتا ہوں
غزل پھولوں سی، دل صحراؤں جیسا
میں اہلِ فن کی حالت جانتا ہوں
تڑپ کر اور تڑپائے مجھ کو
شبِ غم تیری فطرت جانتا ہوںسحر ہونے کو ہے، ایسے لگے ہے
میں سورج کی سیاست جانتا ہوں
نقش لائلپوری
جسونت رائے شرما
No comments:
Post a Comment