ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ہے کامیاب
ذرے بھی بے مثال، ستارے بھی لاجواب
اس طرح اٹھ رہا ہے تِرا گوشۂ نقاب
جلوے بھی کامیاب نگاہیں بھی کامیاب
ماتھا، نشاطِ حسن سے کھلتا ہوا کنول
میں نے پڑھا جو شعر تو وہ مسکرا دیئے
اتنی ذرا سی بات میں جاتا رہا عتاب
قصداً تجلیوں کو دیا حسن نے فروغ
دانستہ، چشمِ شوق پہ ڈالے گئے حجاب
یہ بے تکلفی، یہ نوازش، یہ ربط ضبط
گستاخ کر نہ دیں، یہ کرم ہائے بے حساب
ذوقِ نمود ہی سے عبارت ہے زندگی
موجوں پہ تیرتے ہیں ابھرتے ہوئے حباب
میری نگاہِ شوق کی سرمستیاں نہ پوچھ
ان کو بھی آج خوب پلا دی گئی شراب
اب زندگی کا لطف بہ عنوان درد ہے
ماؔہر بھی ہے حریمِ محبت میں باریاب
ماہر القادری
No comments:
Post a Comment