Wednesday, 11 January 2017

وہ ہنس ہنس کے وعدے کئے جا رہے ہیں

وہ ہنس ہنس کے وعدے کیے جا رہے ہیں
فریبِ تمنا دئیے جا رہے ہیں
تِرا نام لے کر جیے جارہے ہیں
گناہِ محبت کیے جا رہے ہیں
مِرے زخمِ دل کا مقدر تو دیکھو
نگاہوں سے ٹانکے دیے جا رہے ہیں
نہ کالی گھٹائیں، نہ پھولوں کا موسم
مگر پینے والے پیے جا رہے ہیں
تِری محفلِ ناز سے اٹھنے والے
نگاہوں میں تجھ کو لیے جا رہے یں
مِرے شوقِ دیدار کا حال سن کر
قیامت کے وعدے کیے جا رہے ہیں
حریمِ تجلی میں ذوقِ نظر ہے
نگاہوں سے سجدے کیے جا رہے ہیں
ابھی ہے اسیری کا آغاز ماہرؔ
ابھی تو فقط پر سیے جا رہے ہیں

ماہر القادری

No comments:

Post a Comment