ہر ترنم میں ملی ہے تیری آواز مجھے
ایک ہی نغمہ سناتا ہے ہر اک ساز مجھے
عشق کا بھی کوئی "انجام" ہوا کرتا ہے
عشق میں یاد ہے آغاز ہی آغاز مجھے
جیسے ویرانے میں ٹکرا کے پلٹتی ہے صدا
جو کسی کو بھی نہ چاہے اسے چاہا رعنا
عمر بھر اپنی "محبت" پہ رہا ناز مجھے
رعنا اکبر آبادی
No comments:
Post a Comment