Friday, 7 August 2020

ہر ترنم میں ملی ہے تیری آواز مجھے

ہر ترنم میں ملی ہے تیری آواز مجھے
ایک ہی نغمہ سناتا ہے ہر اک ساز مجھے
عشق کا بھی کوئی "انجام" ہوا کرتا ہے
عشق میں یاد ہے آغاز ہی آغاز مجھے
جیسے ویرانے میں ٹکرا کے پلٹتی ہے صدا
دل کے ہر گوشے سے آئی تیری آواز مجھے
جو کسی کو بھی نہ چاہے اسے چاہا رعنا
عمر بھر اپنی "محبت" پہ رہا ناز مجھے

رعنا اکبر آبادی

No comments:

Post a Comment