Friday, 7 August 2020

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے
سر بکف میں بھی ہوں، شمشیر بکف ہے تُو بھی
تُو نے کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے
دل سلگتا ہے تِرے سرد رویے سے مِرا
دیکھ اس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے
آئینہ دیکھ، ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں؟
تُو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے
جیسے تُو حکم کرے، دل مِرا ویسے دھڑکے
یہ گھڑی تیرے اشاروں سے ملا رکھی ہے
مطمئن مجھ سے نہیں ہے جو رعیت میری
یہ مِرا تاج رکھا ہے، یہ قبا رکھی ہے
گوہرِ اشک سے خالی نہیں آنکھیں انور
یہی پونجی تو زمانے سے چھپا رکھی ہے

انور مسعود

No comments:

Post a Comment