Friday, 7 August 2020

سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے

سنتے ہیں کہ مل جاتی ہے ہر چیز دعا سے
اک روز تمہیں مانگ کے دیکھیں گے خدا سے
جب کچھ نہ ملا ہاتھ دعاؤں کو اٹھا کر
پھر ہاتھ اٹھانے ہی پڑے ہم کو دعا سے
دنیا بھی ملی ہے، غمِ دنیا بھی ملا ہے
وہ کیوں نہیں ملتا جسے مانگا تھا خدا سے
تم سامنے بیٹھے ہو تو، ہے کیف کی بارش
وہ دن بھی تھے جب آگ برستی تھی گھٹا سے
اے دل! تُو انہیں دیکھ کے کچھ ایسے تڑپنا
آ جائے ہنسی ان کو جو بیٹھے ہیں خفا سے
آئینے میں "وہ" اپنی "ادا" دیکھ رہے ہیں
مر جائے کہ جی جائے کوئی ان کی بلا سے

رعنا اکبر آبادی

2 comments:

  1. شعر بھیجوں کیسے پلیز بتائیے

    ReplyDelete
  2. To contact me please go to About me (میرے بارے میں) click on view my complete profile
    right click on email and copy email address.
    You can send me your poetry (Nazm, Ghazal, manqabat, naat etc for this blog) couplets will be posted on my other blog 'Poetry Magazine.

    ReplyDelete