فلمی گیت
یہ صلہ ملا ہے مجھ کو تیری دوستی کے پیچھے
کہ ہزاروں غم لگے ہیں میری زندگی کے پیچھے
نہ تو دل کا کوئی مقصد نہ تو میری کوئی منزل
میں چلا ہوں کیوں نجانے کسی اجنبی کے پیچھے
تیرے آستاں سے سر میں اٹھاؤں گا نہ ہر گز
مجھے قتل کر نہ ڈالیں تیری قاتلانہ نظریں
کئی قتل ہو چکے ہیں تیری اک نظر کے پیچھے
مجھے کہہ کے تم شرابی نہ کرو جہاں میں رسوا
کوئی راز تو چھپا ہے میری مے کشی کے پیچھے
وہ امیر ہیں تو ہوں گے میں غریب ہوں تو کیا ہے
وہ محل بنا رہے ہیں میری جھونپڑی کے پیچھے
کوئی ان سے جا کے اتنا ذرا اے شکیل کہہ دے
میں ہوا جہاں میں رسوا تیری عاشقی کے پیچھے
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment