فلمی گیت
قسمت بگڑی دنیا بدلی پھر کون کسی کا ہوتا ہے
اے دنیا والو سچ کہو کیا پیار بھی جھوٹا ہوتا ہے
قسمت بگڑی دنیا بدلی
جب برا زمانہ آتا ہے، سایہ بھی جدا ہو جاتا ہے
وہ دل پر چوٹ لگاتا ہے جو دل کو پیارا ہوتا ہے
دنیا میں وفا کا نام نہیں دنیا کو وفا سے کام نہیں
سب جس کو محبت کہتے ہیں ناادان وہ دھوکا ہوتا ہے
قسمت بگڑی دنیا بدلی
طوفان سے کشتی بچ نکلی ساحل پہ پہنچ کر ڈوب گئی
بھگوان تمہاری دنیا میں اندھیر یہ کیسا ہوتا ہے
قسمت بگڑی دنیا بدلی پھر کون کسی کا ہوتا ہے
اے دنیا والو سچ کہو کیا پیار بھی جھوٹا ہوتا ہے
قسمت بگڑی دنیا بدلی
اسد بھوپالی
No comments:
Post a Comment