Saturday, 5 September 2020

نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ دوستی کا کوئی ٹھکانہ

فلمی گیت

نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ دوستی کا کوئی ٹھکانہ
وفا کا بدلہ ہے بے وفائی عجب زمانہ ہے یہ زمانہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ 

نہ حسن میں اب وہ دلکشی ہے نہ عشق میں اب وہ زندگی ہے
جدھر نگاہیں اٹھا کے دیکھو ستم ہے دھوکہ ہے بے رخی ہے
بدل گئے زندگی کے نغمے بکھر گیا پیار کا ترانہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ

دوا کے بدلے میں زہر دے دو، اتار دو میرے دل میں خنجر
لہو سے سینچا تھا جس چمن کو اُگے ہیں شعلے اسی کے اندر
میرے ہی گھر کے چراغ نے خود جلا دیا میرا آشیانہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ

نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ دوستی کا کوئی ٹھکانہ
وفا کا بدلہ ہے بے وفائی عجب زمانہ ہے یہ زمانہ

شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment