فلمی گیت
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ دوستی کا کوئی ٹھکانہ
وفا کا بدلہ ہے بے وفائی عجب زمانہ ہے یہ زمانہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ
نہ حسن میں اب وہ دلکشی ہے نہ عشق میں اب وہ زندگی ہے
جدھر نگاہیں اٹھا کے دیکھو ستم ہے دھوکہ ہے بے رخی ہے
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ
دوا کے بدلے میں زہر دے دو، اتار دو میرے دل میں خنجر
لہو سے سینچا تھا جس چمن کو اُگے ہیں شعلے اسی کے اندر
میرے ہی گھر کے چراغ نے خود جلا دیا میرا آشیانہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ
نہ آدمی کا کوئی بھروسہ نہ دوستی کا کوئی ٹھکانہ
وفا کا بدلہ ہے بے وفائی عجب زمانہ ہے یہ زمانہ
شکیل بدایونی
No comments:
Post a Comment