Wednesday, 9 September 2020

کیسے مانوں کہ میرا دیس بھی آزاد ہوا

کیسے مانوں کہ میرا دیس بھی آزاد ہوا
جب کہ ہے نشہ حکومت وہی ساز وہی​
کیسے مانوں کہ یہ اجڑا چمن آباد ہوا ​
جب کہ ہے زاغ و زغن کا انداز وہی​
کیسے مانوں کے فرنگی حکومت نہ رہی​
جبکہ ہے جرگہ و جرمانہ و تعزیر وہی​
کیسے مانوں کہ غلامی کی مصیبت نہ رہی​
بیڑیاں پاؤں میں اور ہاتھوں میں زنجیر وہی ​
کیسے مانوں کہ یہاں وقت ہے دلشادی کا​
جبکہ کشکول لیے پھرتا ہے مجبور وہی​
کیسے مانوں کہ لوگوں کی حکومت ہو گی​
جبکہ مسند پہ جمے بیٹھے ہیں سردار وہی​
کیسے مانوں کہ یہاں ختم رعونت ہو گی​
جبکہ فرعون بنے بیٹھے ہیں زردار وہی​
کیسے مانوں کہ یہاں ہو گا شریعت کا نفاذ​
جبکہ ساقی ہے وہی شاہد و مے خانہ وہی​
کیسے مانوں کہ بدل جائیں گے ان کے انداز​
جبکہ ہے نعرۂ لا دینی و مستانہ وہی​
کیسے میں قطرۂ بے مایہ کو دریا کہہ دوں​
کیسے میں خاک کے ذرے کو ثریا کہہ دوں​

میر گل خان نصیر

No comments:

Post a Comment