میری وفاؤں کا کوئی صِلا دیجیے
میری رگِ لہو میں زہر ملا دیجیے
میں گماں لیے بیٹھا ہوں کوئی آئے گا
میرے دروازے کی زنجیر ہلا دیجیے
زخم پہ زخم کھا رہا ہوں، مگر اب
تیرے در پہ آن پڑا ہوں دوا دیجیے
مخلصی کے زمانے گزر گئے، اور اب
جناب عشق کیجیۓ، اور دغا دیجیے
دل اور جلاؤ، کہ اس سوغات سے
بچ جاؤں،۔ پھر بددعا دیجیے
دیکھنا چاہتے ہیں کسی حسن ور کو
اس ستم گر کو آئینا دیجیے
آج طبیت بہت اداس ہے ساقی
آج شراب میں کچھ ملا دیجیے
احسن فیاض
No comments:
Post a Comment