دنوں سے کیسے شبوں میں ڈھلتے ہیں دن ہمارے
یہ ہم بدلتے ہیں، یا بدلتے ہیں دن ہمارے
جو کٹ گیا ہے سفر، ابھی تک نہیں ہمارا
خبر نہیں، اور کتنا چلتے ہیں دن ہمارے
یہ کس کے جانے پہ بین کرتی ہیں چاند راتیں
شبیں جہاں اپنی حکمرانی کا سوچتی ہیں
چراغ بن کر وہیں پہ جلتے ہیں دن ہمارے
جہاں سے آتی ہے مسکراہٹ ترے لبوں کی
وہیں سے روتے ہوئے نکلتے ہیں دن ہمارے
جوان ہو کر بھی بچپنے کا حصار کیوں ہے
انہی کھلونوں سے کیوں بہلتے ہیں دن ہمارے
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment