شہرِ خیال و خواب میں آباد ہو گیا
اتنا اسے پڑھا کہ مجھے یاد ہو گیا
میں آج تک ہوں جس کے فریب و حصار میں
وہ اور ہی کسی کا، میرے بعد ہو گیا
اندھی ہوا کا ساتھ نبھانے کے شوق میں
اپنی تو ساری عمر اسیری میں کٹ گئی
جس نے بھی ہار مان لی، آزاد ہو گیا
پہلے تو پانیوں سے میری سے گفتگو رہی
پھر یوں ہوا کہ آئینہ ایجاد ہو گیا
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment