Saturday, 12 September 2020

ہاتھ چھڑانے والے اور درد بٹانے والے اور

ہاتھ چھڑانے والے اور
درد بٹانے والے اور
تم نے وعدہ، توڑ دیا
عہد نبھانے والے اور
عشق میں وحشت لازم ہے
تم سے سوا دیوانے اور
اک تیرا غم کافی تھا
نکلے درد کمانے اور
آنکھیں دے کر بھول گیا
خواب دکھانے والے اور
دروازے پر دستک ہے
چھوڑ کے جانے والے اور
جان کی قیمت کیا ہے بول
جان لٹانے والے اور
دل تک تم سا، کیا پہنچے
آنکھ ملانے والے اور
وحشت ہم کو شہرت سے
نام کمانے والے اور
آپ کی آنکھیں آئینہ
راز چھپانے والے اور

شائستہ سحر

No comments:

Post a Comment