Sunday, 13 September 2020

دیوانہ وار مانگئے رب سے اٹھا کے ہاتھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

دیوانہ وار مانگیے رب سے اٹھا کے ہاتھ
آئیں گے پھول نعت کے تم تک صبا کے ہاتھ
لکھنے سے پہلے نعت کے آنکھیں ہوں باوضو
آئیں گے تب ہی غیب سے گوہر ثنا کے ہاتھ
بنتی نہیں ہے بات عطا کے بِنا کبھی
آتا نہیں ہے کچھ بھی سوائے عطا کے ہاتھ
اک چشم التفات ادھر بھی ذرا حضورﷺ
امت کی سمت بڑھ گئے مکر و ریا کے ہاتھ
الفت ملی ہے آپؐ کی سب کچھ عطا ہوا
اب کیا کمی رہی جو اٹھائیں دعا کے ہاتھ
سیلابِ عشقِ شافعِ محشرؐ ہے میرے گرد
’’دیکھے تو مجھ کو نار جہنم لگا کے ہاتھ‘‘
وہ فیصلے خدا کی رضا آس بن گئے
جن فیصلوں کے حق میں اٹھے مصطفیٰؐ کے ہاتھ

سعادت حسن آس

No comments:

Post a Comment