دکھا کے وقت نے کرتب مداریوں والے
بھلا دیئے مجھے دن بے قراریوں والے
کچھ اور اونچی اڑانوں میں لے گئے تجھ کو
یہ میرے طور طریقے پجاریوں والے
میں تجھ کو ہار کے ایسے نہ زندگی کرتا
کسی کے لمس نے مٹی کو کردیا سونا
ہمارے ہاتھ میں کاسے بھکاریوں والے
نشانہ باز تو پہلے بھی وہ غضب کا تھا
اب آ گئے اسے گُر بھی شکاریوں والے
شمشیر حیدر
No comments:
Post a Comment