مرثیہ
بر مرگِ مولانا ابوالکلام آزاد
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبین نہیں
تِری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزِیں نہیں ہے
اگرچہ حالات کا سفینہ اسیرِ گرداب ہو چکا ہے
اگرچہ منجدھار کے تھپیڑوں سے قافلہ ہوش کھو چکا ہے
اگرچہ قدرت کا ایک شاہکار آخری نیند سو چکا ہے
مگر تِری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں کا زورِ بیاں گیا ہے
اترگئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تِری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دَیر و کعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم، خواص پہنچے، عوام پہنچے
تِری لحد پہ خدا کی رحمت، تِری لحد کو سلام پہنچے
مگر تِری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
آغا شورش کاشمیری
کیا کمال کی شاعری ھے کہ ھر شخص کی ترجمانی کرگئی۔
ReplyDelete