خارِ حسرت دل میں لے کر اُٹھے بزمِ یار سے
یہ وہ کانٹے ہیں جنہیں لائے ہیں ہم گُلزار سے
ہائے، اس کا یک بیک کہنا ادا سے، پیار سے
آج مجھ کو تم نظر آتے ہو کچھ بیزار سے
ان کی آنکھوں میں ہیں انداز ادا مستی و ناز
نقدِ دل ہم ہار بیٹھے ہیں انہیں دو چار سے
کوئی اس کو سجدہ سمجھے یا علاجِ دردِ سر
اب تو اُٹھنے کا نہیں یہ آستانِ یار سے
پڑ گئے دل پر تمنائے ہم آغوشی میں داغ
یا گِرے ہیں پُھول کچھ تیرے گلے کے ہار سے
ہم کو زِنداں سے جو وحشت سُوئے صحرا لے چلی
وقتِ رُخصت مِل کے ہم روئے در و دیوار سے
ہائے، کیا اندھیر ہے کیسی یہ چہرہ کی چمک
سامنے تو سب کے پھر محروم سب دیدار سے
وصل سے بھڑکاتے کیوں ہم آتشِ دل اور بھی
کیا خبر تھی یہ مرض بڑھ جائے گا تِیمار سے
خلد میں جس کی مسیحائی کی قائل حُورِ عین
عشق ہے شمشاد کو اس نرگسِ بیمار سے
شمشاد لکھنوی
محمد عبدالاحد
No comments:
Post a Comment