Saturday, 9 January 2021

آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا

 آتش فشاں زباں ہی نہیں تھی بدن بھی تھا

دریا جو منجمد ہے کبھی موجزن بھی تھا

میں اپنی خواہشوں سے وفادار تھا سو ہوں

غم ورنہ دلخراش بھی خواہش شکن بھی تھا

کالے خموش پانی کو احساس تک نہیں

چہرے پہ مرنے والے کے اک بانکپن بھی تھا

کس طرح مہر و ماہ کو کرتے الگ فضیل

شعلہ نفس جو تھا وہی گل پیرہن بھی تھا


فضیل جعفری

No comments:

Post a Comment