ایک ہزار تعلق جن میں ایک سہیلی کافی تھی
میرے دکھ سکھ بانٹنے کو وہ ایک اکیلی کافی تھی
جولائی اور جون کی چھٹیوں میں ہم گاؤں جاتے تھے
ہَلا گُلا کرنے کو بس ایک حویلی کافی تھی
میں نے دونوں ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے ڈال لیے
مہندی تیل لگانے کو تو ایک ہتھیلی کافی تھی
شیشے کے گلدان میں جتنے پھول تھے سارے اس کے تھے
گھر پورا مہکانے کو بس ایک چمبیلی کافی تھی
ڈھیروں لفظوں کے معنی میں تم نے یونہی الجھایا ہے
میرے جیسی سادہ دل کو ایک پہیلی کافی تھی
نقشہ جیسے ٹیرس کی دیوار کا میں نے سوچا تھا
ان چپٹی اینٹوں کے اندر ایک نکیلی کافی تھی
یاسمین سحر
No comments:
Post a Comment