Tuesday, 12 January 2021

ساجن نے مرا روپ نرالا نہیں دیکھا

 ساجن نے مِرا روپ نرالا نہیں دیکھا

جھومر نہیں دیکھا مِرا جھالا نہیں دیکھا

کس روگ نے چہرے پہ مِرے زردی اتاری

کس سوگ میں ملبوس ہے کالا، نہیں دیکھا

جلتی ہوئی دیکھی نہیں اِن آنکھوں میں حسرت

دُوری سے پڑا دل پہ جو چھالا، نہیں دیکھا

کس نام کی مہندی ہے رچی ہاتھوں میں میرے

کانوں میں ہے کس نام کا بالا، نہیں دیکھا

مسکان لبوں کی مِرے دیکھی تو ہے اس نے

سینے سے جو اٹھتا ہے وہ نالا، نہیں دیکھا

ہر داغ جو اس دل کا بنا لعلِ بدخشاں

ہر اشک جو گوہر میں ہے ڈھالا، نہیں دیکھا

کس طرح سے اس ذاتِ شکستہ کو سمیٹا

کس طور سے ہے خود کو سنبھالا، نہیں دیکھا

نسرین جنوں کا ہوا کس دھج سے مداوا

وحشت سے ہو وحشت کا ازالا، نہیں دیکھا


نسرین سید

No comments:

Post a Comment