Tuesday, 5 January 2021

پہاڑ آہ سے ہل جائیں گے وگرنہ نہیں

 صدا لپیٹ کے دل جائیں گے وگرنہ نہیں

پہاڑ آہ سے ہل جائیں گے، وگرنہ نہیں

وہ آج دریا سے لڑنے کی ٹھان کر گئے ہیں

کہیں کنارے پہ مل جائیں گے وگرنہ نہیں

ہمارے زخم دلوں اور بازوؤں پر ہیں

جو تم سیو گے تو سل جائیں گے وگرنہ نہیں

یہ پھول، پھول نہیں ہیں مِری دعائیں ہیں

تِری ہتھیلی پہ کھل جائیں گے وگرنہ نہیں

ہمارے جیسے قلندر ہمارے جیسے فقیر

دعا کرو گے تو مل جائیں گے وگرنہ نہیں

ہمارے زخم ہیں اس پیڑ کے تنے پہ ندیم

یہ ناخنوں سے تو چھل جائیں گے وگرنہ نہیں


ندیم بھابھہ

No comments:

Post a Comment