نہ امیدوں سے وابستہ نہ ارمانوں سے وابستہ
ہماری زندی ہے غم کے طوفانوں سے وابستہ
جنہیں فرزانے اپنے نام سے منسوب کرتے ہیں
یہ جتنے بھی چمن ہیں سب ہیں دیوانوں سے وابستہ
ہجومِ یاس، دردِ شوق، یادِ شام تنہائی
نہ جانے زندگی ہے کتنے عنوانوں سے وابستہ
عجب انسان ہیں اس دور کے انسان بھی یارو
نہ اپنوں سے کوئی نسبت نہ بیگانوں سے وابستہ
فراق و جوہر و آزاد و مُلا سے ذرا پوچھیں
جو کہتے ہیں کہ اردو ہے مسلمانوں سے وابستہ
انہیں کے واسطے ہے عشرتِ ساحل یہاں جوہر
سفینے ہو چکے ہیں جن کے طوفانوں سے وابستہ
جوہر بجنوری
چندر پرکاش
No comments:
Post a Comment