Sunday, 21 March 2021

نہ امیدوں سے وابستہ نہ ارمانوں سے وابستہ

 نہ امیدوں سے وابستہ نہ ارمانوں سے وابستہ

ہماری زندی ہے غم کے طوفانوں سے وابستہ

جنہیں فرزانے اپنے نام سے منسوب کرتے ہیں

یہ جتنے بھی چمن ہیں سب ہیں دیوانوں سے وابستہ

ہجومِ یاس، دردِ شوق، یادِ شام تنہائی

نہ جانے زندگی ہے کتنے عنوانوں سے وابستہ

عجب انسان ہیں اس دور کے انسان بھی یارو

نہ اپنوں سے کوئی نسبت نہ بیگانوں سے وابستہ

فراق و جوہر و آزاد و مُلا سے ذرا پوچھیں

جو کہتے ہیں کہ اردو ہے مسلمانوں سے وابستہ

انہیں کے واسطے ہے عشرتِ ساحل یہاں جوہر

سفینے ہو چکے ہیں جن کے طوفانوں سے وابستہ 


جوہر بجنوری

چندر پرکاش

No comments:

Post a Comment