Saturday, 27 March 2021

حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشن

حرف تدبیر نہ تھا حرف دلاسہ روشن

میں جو ڈوبا تو ہوا ساحل دریا روشن

عہد میں اپنے مسلط ہے اندھیروں کا عذاب

طاق میں وقت کے رکھ دو کوئی لمحہ روشن

یوسف آسا سر بازار ہیں رسوا لیکن

وادیٔ عشق میں ہے عزم زلیخا روشن

جو مری ماں نے دیا رخت سفر کی صورت

میرے ماتھے پہ ابھی تک ہے وہ بوسہ روشن

تیر اندھیروں کے مجھے زد میں لیے بیٹھے ہیں

جیسے اس بزم میں ہوں میں ہی اکیلا روشن

عین ممکن ہے پگھل جائیں اندھیرے دل کے

اے ظفر ایسے میں ہو گر کوئی نغمہ روشن


ظفر مرادآبادی

No comments:

Post a Comment