Friday, 5 March 2021

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی

 لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی

اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی

وار کچھ خالی گئے میرے تو پھر آ ہی گئی

اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہُشیاری بھی

عمر بھر کس نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے

وقت کم ہو تو سجا دیتی ہے بیماری بھی

کس طرح آئے ہیں اس پہلی ملاقات تلک

اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی

اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھر

لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی

عمر بڑھتی ہے مگر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں

ٹھوکریں کھائیں تو کچھ آئے سمجھ داری بھی

اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بہت

مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی


شارق کیفی

No comments:

Post a Comment