🍷 زندگی چھلکتا اک آرزو کا پیمانہ
گھُونٹ گھُونٹ بھرتے ہیں آپ جس کا ہرجانہ
پوچھتا نہیں ہرگز حالِ دل کسی صورت
آئینے میں رہتا ہے کوئی ہم سے بےگانہ
رات کی ہتھیلی پر رِینگتے ہیں اندیشے
رقص لَو پہ کرتا ہے جس طرح سے پروانہ
خال خال بھاتا ہے کوئی پُوجنے والا
شاذ شاذ کھُلتا ہے رشکِ دل یہ بُت خانہ
پیاس جھَیل جاتی ہے دُور تک سرابوں کو
دشت اوڑھ لیتے ہیں خامشی سے وِیرانہ
نینا عادل
No comments:
Post a Comment