سرِ صحرا عیاں ہوں اور کیا ہوں
بہاروں میں خزاں ہوں اور کیا ہوں
کوئی مجھ تک پہنچ پاتا نہیں کیوں
حقیقت ہوں، گُماں ہوں اور کیا ہوں
میرا گھر لا مکاں سے بھی پرے ہے
مکانِ بے مکاں ہوں، اور کیا ہوں
حصارِ ذات کا یہ کھیل ہے سب
وگرنہ رائیگاں ہوں، اور کیا ہوں
خود ہی اپنی خودی کا جام پی کر
خود ہی سے بدگماں ہوں اور کیا ہوں
میرے آثار تم ڈھونڈو گے کیسے
نشانِ بے نشاں ہوں اور کیا ہوں
رُکا کیونکر عقیل آخر بھلا کیوں
جو کہتا تھا رواں ہوں اور کیا ہوں
عقیل فاروق
No comments:
Post a Comment