Wednesday, 24 March 2021

پرائے در پہ پاؤں دھر رہے ہو

 پرائے در پہ پاؤں دھر رہے ہو

مجھے لگتا ہے جیبیں بھر رہے ہو

تمہیں دل کا پتہ ہو گا اگر تم

مِرے دل کے کبھی اندر رہے ہو

بھرا اعمال نامہ تھا ہمارا

ورق اک اور بھی تم بھر رہے ہو

بہت اچھے کھلاڑی ہو سنا ہے

مگر کیوں کھیل سے باہر رہے ہو

یہاں سے ابتدا ہوتی ہے حارث

محبت میں جہاں تم مر رہے ہو


حارث انعام

No comments:

Post a Comment