پرائے در پہ پاؤں دھر رہے ہو
مجھے لگتا ہے جیبیں بھر رہے ہو
تمہیں دل کا پتہ ہو گا اگر تم
مِرے دل کے کبھی اندر رہے ہو
بھرا اعمال نامہ تھا ہمارا
ورق اک اور بھی تم بھر رہے ہو
بہت اچھے کھلاڑی ہو سنا ہے
مگر کیوں کھیل سے باہر رہے ہو
یہاں سے ابتدا ہوتی ہے حارث
محبت میں جہاں تم مر رہے ہو
حارث انعام
No comments:
Post a Comment