میری اچھائی دکھائی نہیں دینے والی
میں زمانے کو صفائی نہیں دینے والی
محفلوں میں نہیں کرتی میں سخن کاچرچا
میں وہاں تم کو سنائی نہیں دینے والی
میرے احساس کو سمجھے گا نہیں دنیا زاد
روح تک اس کو رسائی نہیں دینے والی
مجھ سے مت مانگ محبت کے اثاثے میرے
میں کسی کو یہ کمائی نہیں دینے والی
شبنم خالد
No comments:
Post a Comment