چل آ کہ دہر سے کِذب و ریا کشید کریں
کسی کے جرم سے اپنی سزا کشید کریں
چل آ کہ ہم بھی چلیں پار اس عدم کے کہیں
خلا کو خام بنائیں،۔ ہوا کشید کریں
ہم ایسے خانہ بدوشوں کی کیا حدیں ہوں گی
جو وقت ذہن میں رکھ کر جگہ کشید کریں
چل آ کہ دِید کو پاکیزگی سے دھو ڈالیں
سو نور آنکھ میں رکھیں حیا کشید کریں
ضامن عباس
No comments:
Post a Comment