Saturday, 13 March 2021

‏اس کو کرتے ہی یاد ڈال دیا

 ‏اس کو کرتے ہی یاد ڈال دیا

میں نے گھر میں فساد ڈال دیا

دل کے کاسے میں بے یقینی تھی

عشق نے اعتماد ڈال دیا

تھے خسارے ہماری جھولی میں

کس نے اس میں مفاد ڈال دیا؟

میں نے تاخیر کو بھی حیرت میں

دوست، عُجلت کے بعد ڈال دیا

رائیگانی نے دو دلوں کے بیچ

انتقاماً تضاد ڈال دیا


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment