Saturday, 13 March 2021

آج کچھ صورت افلاک جدا لگتی ہے

 آج کچھ صورتِ افلاک جدا لگتی ہے

دیکھتا ہوں تِری جانب تو گھٹا لگتی ہے

زندگی ہم تِرے کوچے میں چلے آئے تو ہیں

تیرے کوچے کی ہوا ہم سے خفا لگتی ہے

شب کی آہٹ سے یہاں چونک گیا ہے کوئی

یہ بھی شاید مِرے دل ہی کی خطا لگتی ہے

میں زمینوں کی لکیروں میں الجھتا کیسے

آسمانوں سے مِری گردشِ پا لگتی ہے

کیا ملے گا تجھے میلے میں بھٹکنے والے 

ان دُکانوں میں فقط ایک صدا لگتی ہے


معید رشیدی

No comments:

Post a Comment