مانا کہ تجھ کو گردش دوراں کا پاس ہے
نغمے بکھیر دے کہ طبیعت اداس ہے
صبح بہانہ جُو سے یہی التماس ہے
بے چارگان شب کو اندھیرا ہی راس ہے
تم آ گئے تو غم کی خلش اور بڑھ گئی
اس دل کا کیا کریں کہ بڑا ناسپاس ہے
ہر لحظہ اب یہ مست نگاہیں سنوار لے
ظالم یہی تو میرے جنوں کی اساس ہے
تم نے رکھیں تھیں تہمتیں جس کے خلوص پر
اب وہ وفا شناس،۔ زمانہ شناس ہے
اسرار زیدی
No comments:
Post a Comment