Saturday, 13 March 2021

مانا کہ تجھ کو گردش دوراں کا پاس ہے

 مانا کہ تجھ کو گردش دوراں کا پاس ہے

نغمے بکھیر دے کہ طبیعت اداس ہے

صبح بہانہ جُو سے یہی التماس ہے

بے چارگان شب کو اندھیرا ہی راس ہے

تم آ گئے تو غم کی خلش اور بڑھ گئی

اس دل کا کیا کریں کہ بڑا ناسپاس ہے

ہر لحظہ اب یہ مست نگاہیں سنوار لے

ظالم یہی تو میرے جنوں کی اساس ہے

تم نے رکھیں تھیں تہمتیں جس کے خلوص پر

اب وہ وفا شناس،۔ زمانہ شناس ہے


اسرار زیدی

No comments:

Post a Comment