Saturday, 24 April 2021

بوجھ سا بڑھ جاتا ہے دل پر شام ڈھلے

 بوجھ سا بڑھ جاتا ہے دل پر شام ڈھلے

رک جاتی ہیں سانسیں پل بھر شام ڈھلے

کھل اٹھتا ہے اس کی یاد کا اک اک رنگ

جاگ اٹھتے ہیں کیا کیا منظر شام ڈھلے

آگ مِرے شریانوں کی لو دینے لگی

پگھلا اس کی انا کا پتھر شام ڈھلے

گہرے ہوں گے سرگوشی کے سائے ابھی

کھل جائے گا لپٹا بستر شام ڈھلے

کس کو بتاؤں گم ہے مِری اپنی پہچان

مجھ سے جدا ہے میرا پیکر شام ڈھلے

اک آندھی سا گھٹتا بڑھتا شور نفس

بھر جاتا ہے ذہن کے اندر شام ڈھلے

دل کے اک گوشے میں سمٹ آتے ہیں رمز

ساتوں آسماں ساتوں سمندر شام ڈھلے


احمد رمز

No comments:

Post a Comment