Saturday, 24 April 2021

تم نے محسوس کہاں میری ضرورت کی ہے

 تم نے محسوس کہاں میری ضرورت کی ہے

میرے جذبوں کی کہاں تم نے حمایت کی ہے

حال پوچھا نہ کسی نے میرے آنسو پونچھے

کیا کسی سے بھی نہیں میں نے محبت کی ہے

خوش تھی میں چھوٹے سے گھر میں بھی تِرے پیار کے ساتھ

میں نے کب تجھ سے کسی محل کی چاہت کی ہے

سوچتی ہوں میں یہی بیٹھ کے تنہائی میں

کیا یقیں کر کے تِرا میں نے حماقت کی ہے

آج پھر شہر میں اُٹھے گا کوئی ہنگامہ

آج سچ کہنے کی اک شخص نے جرأت کی ہے

کتنا روئی ہوں تِرے بعد تجھے کیا معلوم

میں نے لمحوں کی ادا اس طرح قیمت کی ہے

کس طرح ملتا سیاؔ سارے زمانہ سے مزاج

بات کچھ اور نہیں بات طبیعت کی ہے


سیا سچدیو

No comments:

Post a Comment