Tuesday, 6 April 2021

تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

 تمام کھیل تماشوں کے درمیان وہی

وہ میرا دشمن جاں یعنی مہربان وہی

ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے

مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی

سبھی کو اس کی اذیت کا ہے یقین مگر

ہمارے شہر میں ہے رسمِ امتحان وہی

تمہارے درد سے جاگے تو ان کی قدر کھلی

وگرنہ پہلے بھی اپنے تھے جسم و جان وہی

وہی حروف وہی اپنے بے اثر فقرے

وہی بُجھے ہوئے موضوع اور بیان وہی


اسلم عمادی

No comments:

Post a Comment