ہمیشہ یاد رکھنا تم
ہر اک دن جب نیا سورج
تمہارے گھر کے آنگن میں
سنہرے دن کو اپنی گود میں لے کر اُترتا ہے
تو میں بھی ساتھ ہوتی ہوں
تمہاری آنکھ کھُلتی ہے
تو ان آنکھوں میں جگنو سی چمکتی ہوں
تمہارے نرم ہونٹوں پہ
جو اک مُسکان آئے تو
یقیں جانو میں ہنستی ہوں
تمہاری آنکھ کے آنسو
مِری آنکھوں سے گِرتے ہیں
تمہارے دن کی ہر تلخی
مِری سوچوں پہ درد و فکر کی چادر سی بُنتی ہے
تو جانِ من
ہمیشہ یاد رکھنا کہ
ہم اک دُوجے میں بستے ہیں
ثمینہ تبسم
No comments:
Post a Comment