Monday, 24 May 2021

ہمیشہ یاد رکھنا تم

 ہمیشہ یاد رکھنا تم

ہر اک دن جب نیا سورج

تمہارے گھر کے آنگن میں

سنہرے دن کو اپنی گود میں لے کر اُترتا ہے

تو میں بھی ساتھ ہوتی ہوں

تمہاری آنکھ کھُلتی ہے

تو ان آنکھوں میں جگنو سی چمکتی ہوں

تمہارے نرم ہونٹوں پہ

جو اک مُسکان آئے تو

یقیں جانو میں ہنستی ہوں

تمہاری آنکھ کے آنسو

مِری آنکھوں سے گِرتے ہیں

تمہارے دن کی ہر تلخی

مِری سوچوں پہ درد و فکر کی چادر سی بُنتی ہے

تو جانِ من

ہمیشہ یاد رکھنا کہ

ہم اک دُوجے میں بستے ہیں


ثمینہ تبسم

No comments:

Post a Comment