Friday, 7 January 2022

ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی

 ہنستے ہوئے چہرے میں کوئی شام چھپی تھی

خوش لہجہ تخاطب کی کھنک نیم چڑھی تھی

جلووں کی انا توڑ گئی ایک ہی پل میں

کچنار سی بجلی میرے سینے میں اڑی تھی

پیتا رہا دریا کے تموج کو شناور

ہونٹوں پہ ندی کے بھی عجب تشنہ لبی تھی

خوش رنگ معانی کے تعاقب میں رہا میں

خط لب لعلیں کی ہر اک موج خفی تھی

ہر سمت رمِ ہفت بلا شعلہ فشاں ہے

بچپن میں تو ہر گام پہ اک سبز پری تھی

صدیوں سے ہے جلتے ہوئے ٹاپو کی امانت

وہ وادئ گل رنگ جو خوابوں میں پلی تھی

جلتے ہوئے کہسار پہ اک شوخ گلہری

منہ موڑ کے گلشن سے بصد ناز کھڑی تھی

نیزے کی انی تھی رگ انفاس میں رقصاں

وہ تازہ ہواؤں میں تھا کھڑکی بھی کھلی تھی

ہم پی بھی گئے اور سلامت بھی ہیں عنبرؔ

پانی کی ہر اک بوند میں ہیرے کی کنی تھی


عنبر بہرائچی

No comments:

Post a Comment